حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مصری محقق اور دانشور ڈاکٹر احمد راسم النفیس نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہؒ ان رہنماؤں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور اپنے مؤقف کی قیمت ادا کی۔ ان کی شہادت نے ان کے اثرات کو ختم نہیں کیا بلکہ ان کی شخصیت کو ان لوگوں کے دل و دماغ میں مزید زندہ کردیا جو انہیں سیاست، عقیدہ اور قربانی کو یکجا کرنے والی قیادت کی مثال سمجھتے ہیں۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہؒ کی دوسری برسی کے موقع پر ویب سائٹ ’’العہد‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد راسم النفیس نے کہا کہ سید نصراللہؒ نے سیاست اور اصولوں کے درمیان تعلق کو ایک نئی معنویت دی اور ثابت کیا کہ سیاسی عمل مزاحمت، قربانی اور حق کی حمایت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، نہ کہ سمجھوتے اور اصولوں سے انحراف کا راستہ۔
انہوں نے کہا کہ سید حسن نصراللہؒ نے ثابت کیا کہ ’’سیاست نجاست نہیں ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ خیانت کو جائز قرار دینے کے لیے سیاست کو نجاست قرار دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اللہ، رسول اور مسلمانوں سے خیانت کو عوام کے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
راسم النفیس نے شہید سید حسن نصراللہؒ کے ساتھ رہبر انقلاب اسلامی شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کا بھی ذکر کیا اور انہیں قربانی و فداکاری کی روشن مثالیں قرار دیا۔
مصری دانشور نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہؒ نے اپنی زندگی اور پھر اپنی شہادت کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی حقیقی روحانی اور اخلاقی شناخت کی طرف متوجہ کیا اور امت کی پاکیزگی، عظمت اور اصالت کو نمایاں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سید حسن نصراللہؒ نے اپنی زندگی کے آخری مرحلے سے پہلے ’’حق، قربانی اور پاکیزگی‘‘ کا راستہ واضح کردیا تھا۔ ان کی شہادت کے باوجود یہ راستہ ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہے گا، کیونکہ یہ ایک ایسے پاکیزہ درخت کا پھل ہے جسے نہ جڑ سے اکھاڑا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے اثرات کو مٹایا جاسکتا ہے۔










آپ کا تبصرہ